Search

Browse

Want to chat?

Text On Whatsapp +923189723123

Original Shilajit PK product

What is Shilajit in Urdu شیلاجیت کیا ہے؟ فوائد، استعمال اور نقصانات

شیلاجیت ایک قدرتی رال نما مادہ ہے جو اونچے پہاڑوں کی چٹانوں سے رس کر نکلتا ہے۔ یہ صدیوں پرانے پودوں اور معدنیات کے گلنے سے بنتا ہے۔ پاکستان میں گلگت بلتستان کے علاقے اس کے اہم ذرائع میں سے ایک ہیں۔ روایتی طور پر اسے جسم کی کمزوری دور کرنے اور قوت بڑھانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

آج کل بہت سے لوگ اسے مردانہ طاقت اور توانائی کے لیے لیتے ہیں۔ مگر اس کے ساتھ ہی بازار میں نقلی اور ناقص شیلاجیت کا مسئلہ بھی بڑا ہے۔ اس لیے اصل شیلاجیت کی پہچان اور اس کے درست استعمال کو سمجھنا ضروری ہے۔

شیلاجیت کیا ہے اور یہ کہاں سے آتی ہے؟

شیلاجیت ہمالیہ اور اس سے ملحقہ پہاڑی علاقوں میں پائی جاتی ہے۔ یہ چٹانوں کے درمیان سے نکلنے والا گاڑھا، کالا یا گہرا بھورا مادہ ہوتا ہے۔ پاکستان کے گلگت بلتستان سے ملنے والی شیلاجیت کو روایتی طور پر اچھی سمجھا جاتا ہے۔

آیورویدک نظام میں اسے جسم کو نئی زندگی دینے والا مادہ قرار دیا گیا ہے۔ جدید تحقیق کے مطابق اس میں موجود فولوک ایسڈ اور معدنیات اس کے اثرات کی وجہ بنتے ہیں۔

شیلاجیت کی ترکیب اور اس کا کام کرنے کا طریقہ

اس میں فولوک ایسڈ اور ہیمک ایسڈ کی اچھی مقدار ہوتی ہے۔ ان کے علاوہ مختلف معدنیات بھی موجود ہوتے ہیں۔ فولوک ایسڈ جسم میں دیگر معدنیات کے جذب میں مدد دیتا ہے اور اینٹی آکسیڈنٹ کے طور پر کام کرتا ہے۔

روایتی استعمال میں اسے تھکاوٹ دور کرنے اور قوت مدافعت بڑھانے کے لیے لیا جاتا ہے۔ کچھ مطالعات میں درمیانی عمر کے مردوں میں ٹیسٹوسٹیرون کی سطح پر مثبت اثر دیکھا گیا ہے، مگر یہ اثرات ہر شخص پر ایک جیسے نہیں ہوتے اور مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

شیلاجیت کے اہم فوائد

بہت سے لوگ شیلاجیت استعمال کرنے کے بعد توانائی میں اضافہ اور تھکاوٹ میں کمی محسوس کرتے ہیں۔ روایتی طور پر اسے جسمانی برداشت اور قوت بڑھانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

مردانہ صحت کے حوالے سے کچھ تحقیق میں اس کے فائدہ مند اثرات سامنے آئے ہیں۔ ایک مطالعے میں ۴۵ سے ۵۵ سال کے مردوں کو شیلاجیت دی گئی تو ان کی ٹیسٹوسٹیرون کی سطح میں بہتری دیکھی گئی۔

اس کے علاوہ دماغی صحت اور عمر کے اثرات کم کرنے میں بھی اس کے ممکنہ فوائد کی بات کی جاتی ہے۔ اینٹی آکسیڈنٹ خصوصیات کی وجہ سے یہ جسم کے خلیوں کو نقصان سے بچانے میں مددگار ہو سکتا ہے۔

شیلاجیت استعمال کرنے کا صحیح طریقہ

سب سے عام اور آسان طریقہ یہ ہے کہ چنے کے دانے کے برابر مقدار لیں۔ اسے گرم دودھ میں ملا کر رات کو سونے سے پہلے پیا جا سکتا ہے۔ کچھ لوگ اسے پانی میں بھی گھول کر استعمال کرتے ہیں۔

نوجوان افراد کے لیے ہفتے میں دو سے تین دن کافی ہو سکتے ہیں۔ بڑی عمر والے روزانہ استعمال کر سکتے ہیں۔ عام طور پر دو سے تین ماہ تک مسلسل استعمال کے بعد وقفہ لینا بہتر سمجھا جاتا ہے۔

خالص شیلاجیت کیسے پہچانیں

یہ سب سے اہم بات ہے۔ بازار میں بہت سی شیلاجیت نقلی یا اچھی طرح صاف نہ کی گئی ہوتی ہے۔ اصل شیلاجیت کی پہچان کے لیے چند آسان ٹیسٹ ہیں:

پہلا ٹیسٹ پگھلنے کا ہے۔ تھوڑی سی شیلاجیت گرم پانی میں ڈالیں۔ اصل شیلاجیت مکمل طور پر گھل جاتی ہے اور پانی گہرا بھورا ہو جاتا ہے۔ کوئی باقیات نہیں رہنی چاہییں۔

دوسرا ٹیسٹ نرمی کا ہے۔ سردی میں شیلاجیت سخت ہو جاتی ہے، مگر ہاتھ میں رکھنے یا گرم کرنے پر نرم اور چپچپی ہو جاتی ہے۔

تیسرا ٹیسٹ بو اور ذائقے کا ہے۔ اصل شیلاجیت کی مخصوص مٹی جیسی بو ہوتی ہے اور ذائقہ تلخ ہوتا ہے۔

چوتھا ٹیسٹ آگ کا ہے۔ چھوٹی سی مقدار کو آہستہ آگ پر رکھیں۔ اصل شیلاجیت آہستہ آہستہ جلتی ہے جیسے رال۔

سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ لیبارٹری ٹیسٹ شدہ پروڈکٹ ہی خریدی جائے۔ بھاری دھاتوں کی موجودگی ایک حقیقی خطرہ ہے اگر شیلاجیت اچھی طرح صاف نہ کی گئی ہو۔

شیلاجیت کے ممکنہ نقصانات

اصل اور اچھی طرح صاف کی گئی شیلاجیت عام طور پر محفوظ سمجھی جاتی ہے۔ تاہم ناقص معیار والی شیلاجیت میں بھاری دھاتیں جیسے لیڈ یا آرسینک ہو سکتے ہیں۔ ان کا مسلسل استعمال گردوں اور جگر پر بوجھ ڈال سکتا ہے۔

کچھ لوگوں کو شروع میں ہلکا پیٹ خراب ہونے یا الرجی جیسی علامات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ زیادہ مقدار میں لینے سے بھی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

کون لوگ شیلاجیت استعمال نہ کریں

حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی مائیں اسے استعمال نہ کریں۔ گردے کے مسائل والے افراد، آئرن کی زیادتی والے مریض، یا جو کوئی باقاعدہ دوا لے رہے ہوں، انہیں ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کرنا چاہیے۔

اگر آپ کوئی دائمی بیماری رکھتے ہیں تو خود سے شیلاجیت شروع نہ کریں۔

پاکستان میں اصل شیلاجیت کہاں سے خریدیں

پاکستان میں شیلاجیت کی مانگ بڑھنے کے ساتھ ساتھ نقلی پروڈکٹس بھی بڑھ گئی ہیں۔ اچھی شیلاجیت وہی ہے جو درست ذریعہ سے حاصل کی گئی ہو، اچھی طرح صاف کی گئی ہو اور لیبارٹری ٹیسٹ رپورٹ کے ساتھ آتی ہو۔

Original Shilajit PK جیسی کمپنیاں جو مقامی طور پر ذمہ دارانہ طریقے سے کام کر رہی ہیں، ان سے خریداری نسبتاً محفوظ ہو سکتی ہے کیونکہ وہ اکثر ٹیسٹ شدہ پروڈکٹ فراہم کرتی ہیں۔ خریدتے وقت ہمیشہ لیبارٹری رپورٹ اور صارف کے حقیقی تجربات چیک کریں۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

شیلاجیت کتنی دیر میں اثر کرتی ہے؟

زیادہ تر لوگ دو سے چار ہفتوں میں توانائی میں فرق محسوس کرتے ہیں، مگر مکمل اثرات کے لیے مسلسل استعمال کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

کیا خواتین شیلاجیت لے سکتی ہیں؟

ہاں، بہت سی خواتین اینٹی ایجنگ اور عمومی توانائی کے لیے استعمال کرتی ہیں، مگر حمل اور دودھ پلانے کے دوران نہیں لینی چاہیے۔

شیلاجیت ٹیسٹوسٹیرون بڑھاتی ہے؟

کچھ مطالعات میں درمیانی عمر کے مردوں میں مثبت اثر دیکھا گیا ہے، لیکن یہ ہر شخص پر ایک جیسا اثر نہیں کرتی اور مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

شیلاجیت کا ذائقہ کیسا ہوتا ہے؟

اصل شیلاجیت کا ذائقہ تلخ اور قدرے تیز ہوتا ہے۔ بہت سے لوگ اسے دودھ میں ملا کر لیتے ہیں تاکہ ذائقہ بہتر رہے۔

شیلاجیت کھانے کے بعد کیا احتیاط کرنی چاہیے؟

پانی زیادہ پئیں اور اگر کوئی علامت محسوس ہو تو استعمال بند کر کے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

شیلاجیت کتنی مہنگی ہونی چاہیے؟

اصل اور لیبارٹری ٹیسٹ شدہ شیلاجیت سستی نہیں ہوتی۔ بہت سستی شیلاجیت اکثر نقلی یا ناقص معیار کی ہوتی ہے۔

شیلاجیت کے ساتھ کوئی دوا نہیں لینی چاہیے؟

اگر آپ کوئی دوا لے رہے ہیں تو ڈاکٹر یا ہربلسٹ سے ضرور مشورہ کریں، خاص طور پر اگر آپ بلڈ پریشر یا شوگر کی دوائیں لے رہے ہوں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Free Shipping All Over Pakistan
Easy 14 days returns
100% Secure Checkout